← Back to Ebooks
Free Society UR

دو لے شاہ کے چوہے

By کاشف ارشاد

جسمانی خول سے ذہنی غلامی تک — فکری، سماجی اور روحانی تجزیہ۔

Downloads

آن لائن متن

دولے شاہ کے چوہے — جسمانی خول سے ذہنی غلامی تک
(ایک فکری، سماجی اور روحانی تجزیہ)

یہ آرٹیکل بی بی سی اُردو کی اس رپورٹ:
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45294041
اور امام غزالیؒ کی کتاب احیاء علوم الدین سے اخذ شدہ مواد کو ملا کر تیار کیا گیا ہے۔ اس تحریر میں مصنف نے صرف انتخاب، ترتیب اور ربط کا کام کیا ہے۔


تعارف

برصغیر میں “دولے شاہ کے چوہے” ایک ایسے تلخ استعارے کے طور پر جانے جاتے ہیں جن کی جسمانی ہیئت بھی عجیب تھی اور سماجی حیثیت بھی مظلومانہ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ افراد گجرات کے ایک مزار سے وابستہ تھے، جہاں بانجھ والدین اولاد کی منت مانتے اور مراد پوری ہونے پر اپنا پہلا بچہ وہاں چھوڑ دیتے تھے۔ اس بچے پر لوہے کا خول چڑھایا جاتا، جس سے اس کا دماغ نشوونما نہیں پاتا اور وہ ذہنی طور پر معذور بنا دیا جاتا۔

یہ صرف ایک رسم نہیں تھی، یہ انسانی جسم اور انسانی ذہن دونوں پر کیا جانے والا ظلم تھا۔


بی بی سی کی تحقیق: لوہے کا خول اور ذہنی معذوری

بی بی سی اُردو کے مطابق:

  • بچے کو مزار پر چھوڑا جاتا
  • اس کے سر پر تنگ لوہے کا کنٹوپ چڑھا دیا جاتا
  • دماغ آکسیجن کی کمی سے چھوٹا رہ جاتا
  • وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا
  • پھر پوری زندگی اسے بھیک منگوانے کے لیے استعمال کیا جاتا

یہ لوگ بے ضرر تھے، مگر مصنوعی معذوری کے اس نظام نے انہیں زندگی بھر کے لیے ایک سماجی تماشہ بنا دیا۔


ذہنی خول — آج کے معاشرے کا بڑا المیہ

جسمانی خول اگرچہ ماضی کا ظلم تھا، مگر ذہنی خول آج بھی موجود ہیں۔

یہ خول لوہے کے نہیں ہوتے، بلکہ:

  • تعصب
  • اندھی تقلید
  • خوف
  • سیاسی گروہ بندی
  • جعلی عقائد
  • نفسیاتی دباؤ
  • اور ماحول کی ذہنی غلامی

— ان غیر مرئی خولوں کی صورت میں انسان کے ذہن پر چڑھائے جاتے ہیں۔

انسان تعلیم یافتہ ہوتا ہے مگر سوچنے سے محروم،
الفاظ جانتا ہے مگر معنی نہیں،
سمجھ سکتا ہے مگر سمجھتا نہیں۔

بی بی سی کے کالم میں یہی منظر کشی کی گئی کہ:
“تعلیم یافتہ مگر علم سے خالی لوگ… سوچ سکتے ہیں مگر سوچتے نہیں، صحت مند ہیں مگر معذور ہیں، آگاہ ہیں مگر بے شعور۔”

یہ جدید دور کے “مفادات کے چوہے” ہیں—
دماغ رکھتے ہیں، مگر دماغ استعمال نہیں کرتے۔


امام غزالیؒ کی بصیرت — دل اور ذہن کی بیماریاں

امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین میں “کتاب عوارض القلب” اور “کتاب آفات النفس” میں ان بیماریوں کی تفصیل بیان کی ہے جو انسان کے دل اور ذہن کو قید کر دیتی ہیں۔

ان کے مطابق:

  1. تعصب — دل کا سب سے سخت خول
    “تعصب وہ پردہ ہے جو دل کو حق کے نور سے محروم کرتا ہے۔”
  2. اندھی تقلید — عقل کا کنٹوپ
    “جب انسان بغیر دلیل کے دوسروں کی پیروی کرے تو اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور حقیقت نظر نہیں آتی۔”
  3. خواہشات کی غلامی — نفس کا خول
    “خواہش دل پر قفل ڈال دیتی ہے اور انسان حق کو دیکھ کر بھی قبول نہیں کرتا۔”
  4. وہم اور خوف — ذہنی قید
    “وہم اور خوف دل کو زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں، اور انسان حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈرنے لگتا ہے۔”

امام غزالیؒ کے مطابق یہ بیماریاں بھی انسان کو اسی طرح ذہنی معذور بناتی ہیں جیسے جسمانی خول ایک بچے کو معذور بنا دیتا تھا۔


جسمانی معذوری سے ذہنی معذوری — مماثلت

دولے شاہ کے چوہے:

  • جسمانی طور پر قید
  • سوچ سے محروم
  • دوسروں کے رحم و کرم پر
  • اور ایک نظام کے غلام ہوتے تھے

غزالیؒ کی تشریح کے مطابق آج بہت سے لوگ:

  • تعصب کے قیدی
  • خوف کے غلام
  • اندھی تقلید کے اسیر
  • اور خواہشات کے تابع ہیں

فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں خول لوہے کے تھے،
آج یہ خول ذہنی و روحانی ہیں۔


ذہنی خول کیسے ٹوٹتے ہیں؟ (غزالیؒ کی رہنمائی)

امام غزالیؒ نے دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے تین اصول بیان کیے:

  1. حقیقت کی تلاش (گہری فکر)
    ہر بات کو جذبات سے نہیں، حقیقت سے دیکھنا۔
    اندھی پیروی کو چھوڑ کر دلیل کی تلاش کرنا۔
  2. تعصب سے آزادی
    اپنی رائے کو مطلق نہ سمجھنا۔
    حق جہاں بھی ہو، اسے قبول کرنا۔
  3. نفس کی اصلاح (تزکیہ)
    خواہشات، خوف، شہوات، اور غیر ضروری وابستگیوں کو کم کرنا۔
    دل کو دنیا کی غلامی سے آزاد کرنا۔

یہ تین اصول ذہن کے تمام خول توڑ دیتے ہیں۔


نتیجہ

دولے شاہ کے چوہوں کی کہانی ماضی کی داستان نہیں—
آج بھی معاشرے میں بہت سے ذہن تعصب، خوف، اندھی تقلید اور نفسیاتی دباؤ کے خول میں مقید ہیں۔

جسمانی کنٹوپ ختم ہو چکے ہیں،
مگر ذہنی کنٹوپ پہلے سے زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق اور امام غزالیؒ کی تعلیمات مل کر یہی حقیقت دکھاتی ہیں کہ:
انسان کی اصل آزادی جسم کی نہیں، ذہن اور دل کی آزادی ہے۔
جب ذہن آزاد ہو جائے، تبھی انسان مکمل انسان بنتا ہے۔


اختتامی نوٹ

یہ آرٹیکل بی بی سی اردو کی رپورٹ:
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45294041
اور امام غزالیؒ کی کتاب احیاء علوم الدین سے ماخوذ ہے۔

اس میں لکھاری کی ذاتی رائے کو کم سے کم رکھتے ہوئے، اصل ماخذ کے مفہوم کو ہی نمایاں کیا گیا ہے۔

Ebooks Available at
https://IrshadOS.com